پاکستانی فوج کے ہاتھوں بلوچ خواتین کے اغوا کے خلاف بی آر پی کا برلن میں مظاہرہ

0

IMG_3716جنیوا: بلوچ ری پبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیرمحمد بگٹی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی آر پی جرمنی چیپٹر کی جانب سے بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور پاکستانی فورسز کی جانب سے بڑی تعداد میں ڈیرہ بگٹی اور نصیرآباد سے بلوچ خواتین اور بچوں کی اغواہ کے خلاف دارالحکومت برلن میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں پارٹی کارکنان نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا کر جرمن پالیمنٹ اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی دفتر کے سامنے بلوچستان میں ریاستی دہشتگردی کو بے نقاب کیا۔ یاد رہے کہ نئے سال کے اوائل سے ہی پاکستانی فورسز نے ڈیرہ بگٹی اور نصیر آباد کے علاقوں میں بڑے پیمانے میں فوجی کاروائیوں کا آغاز کیا ہے جو کہ بدستور جاری ہیں۔ کاروائیوں کے دوران 250 بلوچ خواتین اور بچوں کو فوجی ٹرکوں میں بھر کر انہیں لاپتہ کیا گیا ہے اور اطلاعات کے مطابق انہیں فوجی چھاونیوں میں کھلے آسمان تلے فینسنگ میں بھیڑ بکریوں کی طرح قید کرکے ان پر مسلسل تشدد کیا جارہا ہے اور انہیں بھوکا پیاسا رکھا جارہا ہے جس کے نتیجے میں اب تک ایک معصوم شیرخوار بچہ منظور ولد سہنڑا بگٹی انتقال کر چکے ہیں جبکہ انکی ماں کو نیم مردہ حالت میں پھینک دیا گیا ہے۔ قید میں موجود دیگر خواتین اور بچوں میں کئی کی حالت تشدد اور بھوک اور پیاس کی وجہ سے شدید نازک ہے اور زیر حراست مزید بے گناہ بلوچ عورتوں اور بچوں کی انتقال کا خطرہ ہے۔ جرمنی میں مظاہرے کا مقصد مندرجہ واقعات اور بلوچستان میں جاری پاکستانی دہشتگردی کو دنیا کے سامنے آشکار کرنا تھا اور ساتھ ساتھ چین کی جانب سے بلوچستان میں اقتصادی راہداری اور ترقیاتی کاموں میں سرمایہ کاری کے نام پر بلوچوں کے سرزمین، ساحل اور وسائل کی لوٹ مار کے ساتھ ساتھ بلوچ نسل کشی میں تیزی لائی جارہی ہے۔ مظاہرے میں بی آر پی کارکنان نے جرمن حکومت، جرمن عوام اور مہذب دنیا سے اپیل کی کہ بلوچستان میں جاری سنگین جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

Comments are closed.

Powered by moviekillers.com